احتجاج کے دوران جانی نقصان کے ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں، خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر کی الزام تراشی
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ احتجاج کے دوران جانی نقصان کے ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ ایک مذہبی تہوار کے موقع پر اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں، نقصانات اور ایرانی قوم کے خلاف لگائے گئے الزامات کے پیچھے امریکی صدر کا ہاتھ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا میں بھوسے سے لدا ٹرک الٹ گیا، 4 افراد جاں بحق، 8 زخمی
امریکی سازش کا دعویٰ
اے ایف پی کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ یہ سب ایک امریکی سازش ہے اور امریکہ کا مقصد ایران کو دوبارہ فوجی، سیاسی اور معاشی غلامی میں دھکیلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کو نگلنا چاہتا ہے اور اسی مقصد کے تحت اندرونی خلفشار کو ہوا دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اگر پاک بھارت جنگ ہوئی تو کسی کا کچھ نہیں بچے گا، خواجہ سعد رفیق
سخت کارروائی کا مطالبہ
خطاب کے دوران ایرانی سپریم لیڈر نے حکام پر زور دیا کہ وہ ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں جنہیں انہوں نے ’’فتنہ پرور‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کو چاہیے کہ وہ ان فتنہ انگیز عناصر کی کمر توڑ دے، جیسے اس نے ماضی میں ایسے فتنوں کو شکست دی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مبینہ اغوا کیس کی مزید پیروی نہیں کرنا چاہتی ہیں، کیس واپس لیتی ہوں، ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے عدالت میں بیان جمع کروا دیا
جنگ سے گریز اور اندرونی جرائم کا ذکر
آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ ایران کسی جنگ کی طرف جانا نہیں چاہتا، لیکن اندرونی جرائم پیشہ عناصر کو بھی نہیں بخشا جائے گا، اور نہ ہی ان بین الاقوامی مجرموں کو جنہیں انہوں نے ملک میں بدامنی کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کے بقول، خدا کے فضل سے ایرانی قوم ان تمام سازشوں کو ناکام بنائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان سے بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ کھیلنے کی درخواست کردی
احتجاجی مظاہروں کا پس منظر
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ کئی ہفتوں سے شدید احتجاجی مظاہرے جاری رہے، جو معاشی مشکلات کے خلاف غصے کے نتیجے میں شروع ہوئے اور تین سال سے زائد عرصے میں اسلامی جمہوریہ کے خلاف سب سے بڑے مظاہروں کی صورت اختیار کر گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے دوران انٹرنیٹ بندش کے ماحول میں ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا۔
امریکہ پر الزام
ایرانی حکام ان مظاہروں کو ’’فسادات‘‘ اور ’’دہشت گردانہ کارروائیاں‘‘ قرار دیتے ہوئے مسلسل امریکہ کو ان کا ذمہ دار ٹھہراتے آ رہے ہیں۔








