عالمی ریٹنگ ایجنسی ’فنچ‘ نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر رپورٹ جاری کر دی
پاکستان کے معاشی صورتحال پر فنچ کی رپورٹ
نیو یارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی ریٹنگ ایجنسی ’فنچ‘ نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر ایک نئی رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ بی نیگٹیو برقرار رکھی گئی ہے، اور عالمی ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کے لیے ایک ریکوری ریٹنگ بھی مقرر کی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی استحکام اور قانون کی حکمرانی کا سکور کمزور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مَعْرُوفِ اِنتِرَنیشنل ایئر لائن نے کرایوں میں کمی کردی
طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ اور سرمایہ کاری کی واپسی
پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ بی نیگٹیو برقرار رکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سیکیورٹیز میں سرمایہ کاروں کو 31 سے 50 فیصد تک رقم واپس ملنے کا امکان ہے۔ فچ کے مطابق، پاکستان کی آؤٹ لک مستحکم ہے، جبکہ ڈیفالٹ کی صورت میں پاکستان کے قرضوں میں اوسط درجے کی ریکوری متوقع ہے۔ یہ صورتحال حکومتی قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کے زیادہ ہونے کی وجہ سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کے مسلسل اقدامات اور عوامی تعاون نے لاہور کے اے کیو آئی کو کنٹرول کیا، الحمدللہ :سینئر منسٹر مریم اورنگزیب
سیاسی استحکام اور گورننس
پاکستان میں سیاسی استحکام، قانون کی حکمرانی اور ادارہ جاتی معیار کے حوالے سے گورننس کا سکور بھی کمزور ہے۔ عالمی بینک گورننس انڈیکس میں پاکستان بائیس فیصد کی سطح پر ہے۔ فچ رپورٹ کے مطابق، حکومتی قرض اور سود کی ادائیگیوں میں کمی نہ ہونے کی وجہ سے ریٹنگ متاثر ہوتی ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام اور دیگر چیلنجز
آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر یا بیرونی مالی دباؤ میں اضافہ بھی ریٹنگ کے متاثر ہونے کی وجوہات میں شامل ہیں۔ فچ نے 15 اپریل 2025 کو پاکستان کی ریٹنگ ٹرپل سی پازیٹو سے بڑھا کر بی نیگٹو کی تھی۔








