گرفتاری بے لگام طاقت کی ہوس سے تعبیر، امریکی عدالت کا غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف مہم میں گرفتار 5 سالہ بچے کی رہائی کا حکم
امریکی عدالت کا اہم فیصلہ
ڈیلاس(آئی این پی ) امریکی عدالت نے ٹیکساس کے ایک امیگریشن حراستی مرکز سے 5 سالہ بچے اور اس کے والد کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جوکہتے ہیں پنجاب میں پی ٹی آئی ختم ہوگئی لاہور میں جلسہ کرنے دیں،پتا چل جائے گا کون کتنا مقبول ہے: وزیر اعلیٰ کےپی
گرفتاری کی وجوہات
جج نے ان کی گرفتاری کو بے لگام طاقت کی ہوس سے تعبیر کیا ہے۔ غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق، 5 سالہ لیام کونیخو راموس، جس کی تصویر نیلے رنگ کی خرگوش نما ٹوپی اور اسپائیڈر مین بیگ کے ساتھ سامنے آئی، کو امریکی ریاست منی ایپولس میں اس کے گھر کے ڈرائیو وے سے حراست میں لیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں سیلاب سے اموات کی تعداد 49 ہوگئی، مزید بارشوں کی پیشگوئی
عوامی ردِعمل
اس واقعہ کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ بچے کے والد، ایڈرین الیگزینڈر کونیخو ایریاس، کو بھی اسی کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی بچے کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ کارروائی بچے کے والد کے خلاف تھی، جنہیں غیر قانونی تارکِ وطن قرار دیا گیا۔ تاہم اس وضاحت کے باوجود عوامی غم و غصہ کم نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر سردار سلیم حیدر خان نے پنجاب اسمبلی کا 33واں اجلاس 24 اکتوبر کو طلب کرلیا
جج کا فیصلہ
امریکی ڈسٹرکٹ جج فریڈ بیئری نے خاندان کے وکیل کی ہنگامی درخواست منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ والد اور بیٹے کو 3 فروری تک رہا کیا جائے۔ جج نے اپنے فیصلے میں بچے کی تصویر بھی شامل کی اور لکھا کہ یہ کیس روزانہ کی بنیاد پر ملک بدری کے اہداف کے غلط اور نااہل نفاذ کا نتیجہ ہے، جس میں بچوں کو ذہنی صدمہ پہنچایا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا حملہ، ایرانی فضائیہ حرکت میں آ گئی، دارالحکومت میں لڑاکا طیاروں کی پروازیں
انسانی بنیادوں پر انصاف کی ضرورت
جج بیئری نے کہا کہ امریکی امیگریشن نظام کے تحت ملک بدری کا عمل زیادہ منظم اور انسانی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ بعض افراد کے لیے طاقت کے حصول میں ظلم کی کوئی حد نہیں رہتی۔
فیملی کی حیثیت
خاندان کے وکیل مارک پروکوش کے مطابق، باپ بیٹا اس وقت سان انتونیو، ٹیکساس کے ایک حراستی مرکز میں موجود تھے۔ دونوں 2024 میں ایکواڈور سے امریکا آئے تھے اور پناہ کی درخواست سمیت تمام قانونی تقاضے پورے کر رہے تھے۔








