برصغیر کی تقسیم کا ایجنڈا کشمیری عوام کو خود ارادیت کا حق دیئے بغیر نامکمل رہے گا: مجیب الرحمان شامی و دیگر مقررین کا پی آئی ڈی کی تقریب سے خطاب
کشمیری عوام کے حق خود ارادیت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) برصغیر کی تقسیم کا ایجنڈا کشمیری عوام کو خود ارادیت کا حق دیئے بغیر نامکمل رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شیر کے حملے میں زخمی بچے کے خاندان کی مدد، وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے الیکٹرک رکشہ فراہم کر دیا گیا
راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن کی تقریب
ان خیالات کا اظہار مقررین نے کشمیریکجہتی ڈے کے سلسلے میں صوبائی دارالحکومت میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) کے زیر اہتمام راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن "The Kashmir Dispute: Challenges to Regional Stability Between Two Nuclear Powers" میں کیا۔ ایونٹ کی میزبانی ڈائریکٹر جنرل PID لاہور شفاقت عباس نے کی۔ راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن میں سینئر صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے شرکت کی، جن میں مجیب الرحمان شامی، سلمان غنی، نجم ولی خان، ملک سلمان، طارق غوری، نور اللہ، سجاد پرویز، ڈاکٹر فوزیہ ہادی علی، ڈاکٹر عرشہ سلیم میر، ملک شکیل اور دیگر شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کی صورتحال: پاکستان سے آج مزید 84 پروازیں منسوخ
کشمیری عوام کا آزادی کا حق
تفصیلات کے مطابق مقررین نے زور دیا کہ کشمیری عوام کا آزادی کا حق جائز ہے اور بھارت کی طرف سے جاری مظالم، جبر اور ریاستی دہشت گردی کے باوجود اسے دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادیں نافذ کرنے کا مطالبہ کیا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھارتی مظالم روکنے میں مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ بھارتی پروپیگنڈے کا مقابلہ ڈیجیٹل میڈیا اور جدید مواصلاتی ذرائع سے مؤثر طریقے سے کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی مقدمات میں ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی گئی
مقامی و بین الاقوامی سطح پر آوازیں
سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ پاکستان کی مسلسل، اصولی اور سفارتی جدوجہد نے کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر زندہ رکھا ہے۔ 5 فروری قومی عزم کی تجدید کرتا ہے اور وہ دن ضرور آئے گا جب کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا۔ انہوں نے کشمیر امور کی وزارت، پارلیمانی کشمیر کمیٹی اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومت سے زیادہ فعال کردار کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیان میں ٹائپنگ کی غلطی ہوئی، وی پی این کو غیر شرعی نہیں کہا، راغب نعیمی کی وضاحت
انڈیائی مظالم کے خلاف آواز
سلمان غنی نے کہا کہ پاکستان دفاعی خود انحصاری حاصل کر چکا ہے اور اب معاشی خود کفالت کی طرف تیزی سے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے دہرایا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے بغیر تقسیم کا ایجنڈا نامکمل ہے۔ قوم کشمیر پر متحد ہے اور سول-ملٹری قیادت میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ بھارت نے کشمیر میں آزادی کی تحریک کو کچلنے کی تمام ترکیبیں استعمال کیں مگر ناکام رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے افغانستان کی ٹیم بھارت پہنچ گئی
ڈیجیٹل میڈیا کا کردار
شفاقت عباس نے کہا کہ پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرتا رہے گا۔ بھارتی پروپیگنڈے کا منطقی اور مؤثر جواب ڈیجیٹل میڈیا سے دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے لیے امریکہ اپنی ویزہ پالیسی پر نظرثانی کر رہا ہے اور امید ہے کہ جلد پاکستان کے شہریوں کے لیے ویزے بحال کر دیے جائیں گے
نوجوانوں کی شمولیت
نجم ولی خان نے قوم کی یکجہتی اور پاکستان کی سیاسی، فکری اور سفارتی کوششوں کا ذکر کیا۔ طارق غوری نے نوجوانوں کی جانب سے ڈیجیٹل مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر فوزیہ ہادی علی نے بھارتی ڈس انفارمیشن کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے بیانیے کو مزید مضبوط کرنے کی بات کی۔ ڈاکٹر عرشہ سلیم میر نے مودی حکومت کے چہرے کو بے نقاب کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی
ایونٹ کے اختتام پر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے واک کا انعقاد کیا گیا۔ یہ تقریب پاکستان کی جانب سے کشمیر یکجہتی ڈے (5 فروری) کے سلسلے میں منعقد کی گئی تقریبات کا حصہ تھی، جس میں ملک بھر میں ریلیاں، سیمینارز اور دیگر پروگرامز ہو رہے ہیں تاکہ کشمیریوں کی خود ارادیت کی جدوجہد کی حمایت کی جائے۔








