ڈنڈا پیر اے بِگڑیاں تِگڑیاں دا

سفر کا آغاز

مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط:49
چنانچہ میں لائل پور (اب فیصل آباد) سے ریل گاڑی میں سوار ہو کر چل دیا۔ میری منزل ”گوردت سنگھ والا“ ریلوے اسٹیشن تھی۔ دو تین ہی سٹیشن گذرے ہوں گے کہ گرد و غبار سا اُڑنے لگا اور پھر مکمل آندھی کی صُورت اختیار کرگیا۔ کچھ توقف کے بعد جب میں نے ایک ساتھی مسافر سے دریافت کیا کہ ”گوردت سنگھ والا ریلوے اسٹیشن“ ابھی کتنی دُور ہے تو وہ کہنے لگا کہ وہ تو گذر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اے پی این ایس سندھ کا اجلاس، پی آئی ڈی کی جانب سے صوبے کے اخبارات کو نظر انداز کرنے پر اظہار تشویش

مسافر کی مدد

میں نے ساری صورتِ حال اُسے بتائی تو وہ کہنے لگا اب ایک ہی صورت ہے کہ اِسی گاڑی میں بیٹھے ”شور کوٹ“ جائیں وہاں سے یہی گاڑی دوبارہ کچھ دیر ٹھہر کر واپس فیصل آباد جائے گی، تو راستے میں دھیان سے اُس اسٹیشن پر اُتر جانا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ شور کوٹ سے میں دوبارہ اُسی گاڑی میں سوار ہوگیا۔ اور بڑے دھیان سے ہر سٹیشن کا پتہ کرنے لگا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران اور عراق میں ہزاروں پاکستانی پھنس گئے

سٹیشن کی ناکامی

چنانچہ جب ”گوردت سنگھ والا اسٹیشن“ آیا تو گاڑی وہاں نہ رُکی۔ بلکہ آگے جا کر گوجرہ میں رُکی۔ پتہ چلا کہ یہ گاڑی واپس آتے ہوئے "Fast Passenger" کر دی گئی ہے اور اسٹیشن چھوڑتی جاتی ہے۔ خوش قسمتی ہی کہیے کہ وہاں گاڑی کھڑی ہوتے ہی دیکھا کہ ساتھ ایک اور گاڑی کھڑی ہے۔ پتہ چلا یہ شورکوٹ جا رہی ہے، چنانچہ فوراً اُتر کر اُس گاڑی میں سوار ہوگیا۔ تو اللہ اللہ کر کے شام ڈھلے ”گوردت سنگھ والا“ اسٹیشن پر اُتر کر خدا کا شکر ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں: عامر خان نے اپنی فلم ‘لال سنگھ چڈھا’ کے ناکام ہونے کی وجہ بتادی

شرارت کا آغاز

پچھلا پہر تھا باہر نکلا تو سکول کے لڑکے لڑکیاں بھی گاڑی سے اُترے۔ نہ جانے کیوں ایک لڑکا پوچھنے لگا کہ آپ کہاں جائیں گے؟ میں بھی کچھ شرارت پر اُتر آیا کہ میں کیوں بتاؤں؟ چنانچہ وہ تو میرے پیچھے ہی پڑ گئے کہ آخر آپ کسی نہ کسی گاؤں میں تو جائیں گے۔ چناچہ شرارتاً زرعی فصلوں میں چھپتے چھپتے اُس گاؤں کے قریب پہنچا تو انہوں نے مجھے آلیا۔ کہ اب بتائیں کس گھر جانا ہے؟ میں نے شرارتاً دوڑ لگا دی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت 20 جنوری تک ملتوی

مظہر حسین کا گھر

میں آگے وہ پیچھے…… آخر مظہر حسین کے گھر کے آگے آکر جو میں نے گھر کی کنڈی کھٹکھٹائی تو مظہر حسین جب باہر آیا تو آٹھ دس لڑکے وہاں شور مچا رہے تھے اور میرا میزبان کبھی لڑکوں اور کبھی مجھے دیکھ رہا تھا کہ یہ کیا تماشا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے توہینِ عدالت کیس دائر کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط ارسال کردیا

پرنسپل احمد مختار

”ڈنڈا پیر اے بِگڑیاں تِگڑیاں دا“ 1952ء کے تقریباً وسط میں جناب احمد مختار صاحب کی بطور پرنسپل گورنمنٹ کالج لائل پور اب فیصل آباد تعیناتی ہوئی۔ تو آپ نے آتے ہی طرح طرح کی انتظامی تبدیلیاں کیں۔ ہوسٹلوں کے سپرئنٹنڈنٹ تبدیل کردئیے۔ جرمانوں کی شرح بڑھا دی۔ اِس طرح انتظامی طور پر کالج میں ایک بہتری نظر آنے لگی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک سے بے روزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کی کوشش کریں: شیخ رشید

دیہی کالج کے مسائل

”دیہاتی کالج ہونے کے ناطے ہوسٹلوں میں علاقے کے بڑے بڑے زمینداروں کے سپوت آکر ڈیرہ ڈالے رکھتے تھے۔ پڑھنے پڑھانے سے لا تعلق اپنی چودھراہٹ بنانے میں لگے رہتے۔ نئے آنے والوں میں ہم جیسے بھی کافی تعداد میں تھے جو انڈیا سے نقل مکانی کی اندوہناک سختیاں جھیل کر آئے تھے اور اب مزید بے وجہ سختیوں کے متحمل نہ تھے۔

نئی جھڑپیں

لیکن و ہ بگڑے وڈیروں کے سپوت اپنی روش پر قائم و دائم رہتے ہوئے ہر موقع تلاش کرتے اور دوسروں کی تذلیل کا سامان پیدا کرتے۔ چھوٹی موٹی جھڑپیں تو ہوتی رہتیں۔ لیکن ایک دفعہ ایک سوچا سمجھا معرکہ نیو ہوسٹل کی فضاؤں میں معرضِ وجود میں آیا جس میں لاٹھیوں سے ایک دوسرے کی پٹائی کی گئی اور کئی طالب علم زخمی بھی ہوگئے۔(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...