کوئٹہ میں پسند کی شادی کرنے والے میاں بیوی کو قتل کرنے کے الزام میں 11 افراد گرفتار
کوئٹہ میں پسند کی شادی کے جوڑے کا قتل
کوئٹہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے نواح میں پسند کی شادی پر جوڑے کو قتل کرنے والے 11 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟
وزیراعلیٰ کا بیان
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کی گئی پوسٹ میں کیس کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 11 ملزمان گرفتار کئے جا چکے ہیں، آپریشن جاری ہے، تمام ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا، ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پاک، بھارت وزرائے اعظم ’’ٹاکرے‘‘ کا امکان ہے؟
واقعے کی تفصیلات
یہ واقعہ مبینہ طور پر عیدالاضحیٰ کے آس پاس پیش آیا اور اسے ’غیرت کے نام پر قتل‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں چند افراد کو ایک خاتون اور مرد کو قتل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جن پر بظاہر محبت کی شادی کرنے کا الزام تھا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر زرداری کی بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات کے فروغ پر اتفاق
مقدمہ اور تحقیقات
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کی ہدایت پر دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد لیویز اور انسداد دہشت گردی محکمے (سی ٹی ڈی) نے ایک مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا تھا۔ حکام کے مطابق ’یہ مقدمہ بلوچستان حکومت کی جانب سے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت درج کیا گیا، کیونکہ علاقے کے کسی بھی فرد، بشمول مقتولین کے رشتہ داروں یا مقامی لوگوں نے لیویز یا سی ٹی ڈی کو کوئی درخواست نہیں دی۔'
یہ بھی پڑھیں: دیہی علاقوں کے عوام کیلئے کوالیفائیڈ ڈاکٹر ملتا نہیں, ہم شہروں میں کچھ نہیں کرتے مگر دیہات کے جعلی ڈاکٹروں کے چالان پر چالان کر دیتے ہیں.
جوڑے کی کہانی
اطلاعات کے مطابق مقتولین احسان سمالانی اور بانو ستک زئی نے اپنی مرضی سے شادی کی تھی، جس پر ان کے خاندان ناراض تھے۔ معاملہ علاقے کے ’بزرگوں‘ کے پاس لے جایا گیا، جنہوں نے موت کی سزا سنائی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جوڑے کو عید سے قبل ایک دیہی علاقے ڈگری میں کھانے کی دعوت پر بلایا گیا، اور بعد میں انہیں ایک ویران مقام پر لے جایا گیا جہاں انہیں بزرگوں کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جو سموگ آگئی ہے یہ ختم نہیں ہوگی، جنوری تک رہےگی، لاہور ہائیکورٹ کے کیس میں ریمارکس
قتل کے وقت کی صورتحال
قتل سے قبل مقتولہ نے قاتلوں سے براہوی زبان میں کہا کہ تمہیں مجھے گولی مارنے کی اجازت ہے، لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اسے سات قدم چلنے دیا جائے، جس کے بعد اسے مبینہ طور پر اس کے بھائی نے 3 گولیاں مار کر قتل کیا، اور پھر اس کے شوہر کو بھی قتل کر دیا۔ لاشیں تاحال برآمد نہیں ہو سکیں، جس سے تفتیش مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
حکام کی کوششیں
یہ ویڈیو غالباً عیدالاضحیٰ سے کچھ دن پہلے بنائی گئی تھی۔ حکام ان باقی ماندہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں جن کی شناخت ہو چکی ہے، تاہم اُن کے نام فی الحال ظاہر نہیں کیے گئے۔








