190 ملین پاؤنڈ؛ عمران، بشریٰ کو سزا سنانے والے جج کی تعیناتی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر
آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سزا سنانے والے جج ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج ناصر جاوید رانا کی تعیناتی کے خلاف درخواست نومبر کے دوسرے ہفتے میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: انڈر19 ایشیا کپ؛ بنگلہ دیش نے سیمی فائنل میں پاکستان کو شکست دیدی
چیف جسٹس کی طبیعت کی خرابی
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس کو نومبر کے دوسرے ہفتے میں سنیں گے، آج میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک اننگز میں 19 چھکے، نیوزی لینڈ کے فن ایلن نے کرس گیل کا ریکارڈ توڑدیا
درخواست گزار کا موقف
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے درخواست گزار اسامہ ریاض کی جج ناصر جاوید رانا کی تعیناتی کے خلاف کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے متفرق درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بیگم ڈال دے گی کوڑا دان میں کیا۔۔۔( مسکرائیے)
جج کی تعیناتی پر سوالات
چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل ریاض حنیف راہی سے استفسار کیا کہ یہ معاملہ کیا ہے اور کیا یہ 2004 کا آرڈر ہے؟ جس پر ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے 19 اکتوبر 2004ء کے فیصلے میں ناصر جاوید رانا کو جوڈیشل سروس کے لیے اَن فٹ قرار دیا گیا تھا۔ اس لیے بطور جج ان کی تعیناتی غیر قانونی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بہن پر دہرے قتل کا الزام، نرگس فخری کو واقعے کا علم کیسے ہوا؟ حیران کن دعویٰ
مؤقف کی وضاحت
وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ مرحوم وہاب الخیری صاحب کے کیس سے متعلق ہے، اگر وہ زندہ ہوتے تو اس فیصلے پر ضرور پہرہ دیتے، اس لیے انہوں نے پٹیشن دائر کی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: پراپرٹی اونرشپ آرڈیننس پر عمل درآمد روکنے کے معاملے پر فل بینچ تشکیل
عدالتی حکم
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ اسے نومبر کے دوسرے ہفتے میں سنیں گے، آج میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
درخواست کا مواد
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ناصر جاوید رانا کو کام سے روکا جائے اور ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔ مزید کہا گیا ہے کہ اگر درخواست کا فیصلہ ہونے سے پہلے وہ ریٹائر ہو چکے ہوں تو 14 دسمبر 2022 کے بعد حاصل کی گئی تمام مراعات اور واجبات واپس لیے جائیں، اور انہیں کسی بھی پینشن یا دیگر فوائد کا حق دار نہ قرار دیا جائے۔
سماعت کا التواء
عدالت نے کیس نومبر کے دوسرے ہفتے کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔








