190 ملین پاؤنڈ؛ عمران، بشریٰ کو سزا سنانے والے جج کی تعیناتی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر
آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ نیب کیس میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سزا سنانے والے جج ڈسڑکٹ اینڈ سیشن جج ناصر جاوید رانا کی تعیناتی کے خلاف درخواست نومبر کے دوسرے ہفتے میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم سے جسٹس منصور کا راستہ رُکا ، رانا ثنا اللہ کا اعتراف
چیف جسٹس کی طبیعت کی خرابی
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس کو نومبر کے دوسرے ہفتے میں سنیں گے، آج میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 28 سیاحوں کے قتل پر پاکستان کا اظہار افسوس
درخواست گزار کا موقف
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے درخواست گزار اسامہ ریاض کی جج ناصر جاوید رانا کی تعیناتی کے خلاف کیس جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے متفرق درخواست پر سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلادیشی عدالت کی شیخ حسینہ کو سزائے موت، چین کا ردعمل سامنے آگیا
جج کی تعیناتی پر سوالات
چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل ریاض حنیف راہی سے استفسار کیا کہ یہ معاملہ کیا ہے اور کیا یہ 2004 کا آرڈر ہے؟ جس پر ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کے 19 اکتوبر 2004ء کے فیصلے میں ناصر جاوید رانا کو جوڈیشل سروس کے لیے اَن فٹ قرار دیا گیا تھا۔ اس لیے بطور جج ان کی تعیناتی غیر قانونی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا احتجاجی قافلہ، ترجمان شیخ وقاص اکرم کا اہم بیان سامنے آ گیا
مؤقف کی وضاحت
وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ مرحوم وہاب الخیری صاحب کے کیس سے متعلق ہے، اگر وہ زندہ ہوتے تو اس فیصلے پر ضرور پہرہ دیتے، اس لیے انہوں نے پٹیشن دائر کی۔
یہ بھی پڑھیں: فزا علی کا ڈاکٹر نبیہہ علی خان کے وائرل تنازع پر وضاحتی بیان سامنے آگیا
عدالتی حکم
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیے کہ اسے نومبر کے دوسرے ہفتے میں سنیں گے، آج میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (پیر) کا دن کیسا رہے گا؟
درخواست کا مواد
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ناصر جاوید رانا کو کام سے روکا جائے اور ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔ مزید کہا گیا ہے کہ اگر درخواست کا فیصلہ ہونے سے پہلے وہ ریٹائر ہو چکے ہوں تو 14 دسمبر 2022 کے بعد حاصل کی گئی تمام مراعات اور واجبات واپس لیے جائیں، اور انہیں کسی بھی پینشن یا دیگر فوائد کا حق دار نہ قرار دیا جائے۔
سماعت کا التواء
عدالت نے کیس نومبر کے دوسرے ہفتے کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔








